زبان کی ترقی

ایک مشہور ویب سائٹ www.ethnolouge.com  نے بروشسکی زبان کی درجہ بندی کی اور اس کو 6a کا درجہ دیا. اِس درجے کے مُطابق برُوشَسکی ایک زِندہ اور زیادہ اِستعمال ہونی والی زبان ہَے ، البتہ لکھائی  کے  معملے  میں یہ زبان  ناپید  مانی جاتی  ہے ۔ بہر حال اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے  توبرُوشَسکی زبان    5 کے درجے تک پہُنچ چُکی ہَے۔ جس کا مطلب ہےکہ برُوشَسکی زبان باضابطہ طور پر تحرِیر کی جا سکتی ہَے۔

 

موجُودہ زمانے میں برُوشَسکی میں لِکھنے کا رِواج کافی حدّ تک بڑھ  چُکا ہَے، لیکن مُتفقہ طور پر اَ بھی تک ایک ہی تحرِیری سِسٹم پر برُوشو قَوم میں اِتفاق نہیں۔ علامہ نصیر اُلدِین نصِیر ہُنزائی جِس کو اکثر ’بابائے برُوشَسکی‘ کہتے ہَیں، معرُوف شاعر و سکالر غُلام اَلدِین غُلام ہُنزائی اور قُدرت اُللہ بیگ برُوشو قلم کاروں میں صف ِ اوّل کا درجہ رکھتے ہَیں۔ اِنہی کے نقش ِ قدم پرچلتے ہُوئے دُوسرے شاعر اور اَدیب بھی منظر عام پر آنے لگے ہَیں۔ اِسی طرح آج کے زمانے میں برُوشو قَوم میں اِنٹرنیٹ اور موبائل فون سے واقفیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ برُوشَسکی لِکھنے کا رِواج بھی کافی حدّ تک بڑھ چُکا ہَے۔